نظیر اکبرآبادی اور آدمی نامہ

نظیر اکبرآبادی اور آدمی نامہ

نام ولی محمد
تخلص نظیر
پیدائش 1735ء، دہلی
وفات 1830ء، آگرہ
لقب عوامی شاعر، نظم کے باوا آدم

زندگی کے حالات

نظیر اکبر آبادی اردو کے وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے دربار اور محبوب کے قصوں سے نکل کر عام آدمی کی زندگی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ دہلی میں پیدا ہوئے لیکن زیادہ زندگی آگرہ میں گزاری۔ پیشے کے اعتبار سے مدرس تھے اور بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بادشاہوں کی خوشامد سے دور رہے اور بازاروں، میلوں، غریبوں کی بستیوں میں گھوم کر شاعری کے لیے مواد جمع کرتے تھے۔

شاعری کی خصوصیات

  • عوامی زبان: فارسی کے مشکل الفاظ سے بچ کر خالص ہندوستانی بولی استعمال کی۔ اسی لیے عام لوگ بھی ان کو سمجھ لیتے تھے۔
  • نظم کے بانی: غزل کے دور میں نظم کو مقبول بنایا۔ ان کو "نظم کا باوا آدم” بھی کہا جاتا ہے۔
  • موضوعات: بچوں کے کھیل، ہولی-دیوالی، رمضان، بھکاری، بنجارے، بازار کے مناظر، غریبی، امیری۔ ہر چیز پر نظم کہی۔
  • انداز: طنز و مزاح کے ساتھ گہرا فلسفہ۔ ہنستے ہنستے بڑی بات کہہ جاتے ہیں۔

مشہور نظمیں

  • آدمی نامہ: معاشرے کے ہر طبقے کا طنزیہ جائزہ
  • بنجارہ نامہ: دنیا کی بے ثباتی پر شاہکار نظم
  • ہولی، دیوالی، عید: تہواروں کی رنگینی
  • کیا کیا ٹھاٹھ بناتا ہے: انسانی فطرت پر طنز
  • روٹیاں: غریب کی بھوک کا دردناک بیان

ادبی مقام

ان کے زمانے کے بڑے شاعر ان کو "بازاری شاعر” کہہ کر مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن آج نظیر کو اردو کا سب سے بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے شاعری کو محل سے نکال کر جھونپڑی تک پہنچا دیا۔

ڈی ڈی یو نصاب میں اہمیت

بی اے سال اول اردو پرچہ دوم میں "آدمی نامہ” شامل ہے جو ان کی فکر اور فن کا بہترین نمونہ ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔