مسدس مدوجزر اسلام از خواجہ الطاف حسین حالی – مکمل متن

خواجہ الطاف حسین حالی
مسدس مدوجزرِ اسلام

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

خطا کار سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اٹھ کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈرنہ بیڑے کو موج بلا کا
ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی

عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی

اک آواز میں سوتی بستی جگا دی

پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے

نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے

نہ آگاہ تھے مبداء و منتہا سے

لگائی تھی ایک اک نے لوہاسوا سے

پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے

یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا
یہ راعی نے للکار کر جب پکارا

کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق

زبان اور دل کی شہادت کے لائق

اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق

اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق

لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ
جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ

لیے علم و فن ان سے نصرانیوں نے

کیا کسب اخلاق روحانیوں نے

ادب ان سے سیکھا صفاہانیوں نے

کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے

ہر اک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا
کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا

ارسطو کے مردہ فنون کو جلایا

فلاطون کو زندہ پھر کر دکھایا

ہر اک شہر و قریہ کو یاناں بنایا

مزا علم و حکمت کا سب کو چکھایا

کیا برطرف پردہ چشم جہاں سے
جگایا زمانے کو خواب گراں سے

ہر اک علم کے فن کے جویا ہوئے وہ

ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ

فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ

سیاحت میں مشہور دنیا ہوئے

ہر اک ملک میں ان کی پھیلی عمارت
ہر اک قوم نے ان سے سیکھی تجارت

وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن

یہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن

نوشتوں سے ہیں جنکے اب تک مزین

کتب خانہ پیرس و روم و لندن

پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں
وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں

وہ ملت کہ گردوں پہ جس کا قدم تھا

ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علم تھا

ہو فرقہ جو آفاق میں محترم تھا

وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا

نشاں اس کا باقی ہے صرف اس قدریاں
کہ گلتے ہیں اپنے کو ہم بھی مسلماں

ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے

کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے

لگا نام آباء کو ہم سے گہن ہے

ہمارا قدم ننگِ اہل وطن ہے

بزرگوں کی توقیر کھوئی ہے ہم نے
عرب کی شرافت ڈبوئی ہے ہم نے

یہاں جتنی قومیں ہمارے سوا ہیں

ہزار ان میں خوش ہیں تو دو مبتلا ہیں

یہاں لاکھ میں دو اگر اغنیا ہیں

تو سو نیم بسمل ہیں باقی گدا ہیں

ذرا کام غیرت کو فرمائیں گر ہم
تو سمجھیں کہ ہیں متبذل کس قدر ہم

کہیں باپ دادا کا ہیں نام لیتے

کہیں روشنائی سے ہیں کام لیتے

کہیں جھوٹے وعدوں پہ ہیں دام لیتے

یونہی ہیں وہ دے دے کے دم دام لیتے

بزرگوں کے نازاں ہیں جس نام پر وہ
اسے بیچتے پھرتے ہیں در بدر وہ

انہی کے بزرگ ایک دن حکمراں تھے

انہی کے پرستار جیر و جواں تھے

یہی ماسن عاجز و ناتواں تھے

یہی مریخ و دیلم و اصفہاں تھے

یہی کرتے تھے ملک کی گلہ بانی
انہیں کے گھروں میں تھی صاحب قرآنی

بہت آپ کو کہہ کے مسجد کے بانی

بہت بن کے خود سیّد خاندانی

بہت سیکھ کر نوحہ و سوز خوانی

بہت مدح میں کرکے رنگیں بیانی

بہت آستانوں کے خدام بن کر
پڑے مانگتے کھاتے پھرتے ہیں در در

یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدا کا

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا

خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر

وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر

تفوق ہے ان کو کہیں و مہیں پر

مدار آمدت کا ہے اب انہیں پر

شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے
وہ لے جاکے سب اہل مغرب نے جوڑے

امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت

ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت

فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرأت

سپاہی کے ہتیار شاہوں کی طاقت

دلوں کی امیدیں اسکلوں کی خوشیاں
سب اہلی وطن اور وطن پر ہیں قرباں

غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت

مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت

اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت

تو ہے بیزادوں پہ وقف ان کی دولت

نگے ہیں دن رات وال عیش کرتے
پہ نوکر ہیں جتنے وہ بھوکے ہیں مرتے

وہ علم شریعت کے ماہر کدھر ہیں

وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں

اصولی کدھر ہیں، مناظر کدھر ہیں

محدث کہاں ہیں، مفسر کدھر ہیں

وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں جھلملاتا نہیں واں

ہمارا یہ حق تھا کہ سب یار ہوتے

مصیبت میں یاروں کے غمخوار ہوتے

سب ایک ایک کے باہم مددگار ہوتے

عزیزوں کے غم میں دل افگار ہوتے

جب الفت میں یوں ہوتے ثابت قدم ہم
تو کہہ سکتے اپنے کو خیر الامم ہم

اگر بھولتے ہم نہ قولی پیمبر

کہ ” ہیں سب مسلمان باہم برادر "

برادر ہے جب تک برادر کا یاور

معین اس کا ہے خود خداوند داور

تو آتی نہ بیڑے پہ اپنے تباہی
فقیری میں بھی کرتے ہم بادشاہی

وہ گھر جسمیں دل ہوں ملے سبکے باہم

خوشی نا خوشی میں ہوں سب یار و ہمدام

اگر ایک خوش دل تو گھر سارا خرم

اگر ایک گمگیں تو دل سب کے پرغم

مبارک ہے اس قصر شاہنشہی سے
جہاں ایک دل ہو مکدر کسی سے

جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے

پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے

نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے

کوئی ان میں سوتا کوئی جاگتا ہے

جو سوتے ہیں وہ مست خواب گراں ہیں
جو بیدار ہیں ان پہ خندہ زناں ہیں

کوئی ان سے پوچھے کہ اے ہوش والو

کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو

برا وقت بیرے پہ آنے کو ہے جو

نہ چھوڑے گا سوتوں کو اور جاگتوں کو

پچے گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے
اگر ناؤ ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے

کسی نے یہ اک مرد دانا سے پوچھا

کہ نعمت ہے دنیا میں سب سے بڑی کیا

کہا عقل جس سے ملے دین و دنیا

کہا گر نہ ہو اس سے انساں کو بہرا

کہا پھر اہم سب سے علم و ہنر ہے
کہ جو باعث افتخار بشر ہے

کہا گر نہ ہو یہ بھی اس کو میسر

کہا مال ودولت ہے پھر سب سے بڑھکر

کہا اور ہو یہ بھی اگر بند اس پر

کہا اس پہ بجلی کا گرنا ہے بہتر

وہ ننگ بشر تا کہ ذلت سے چھوٹے
خلائق سب اس کی نحوست سے چھوٹے

مجھے ڈر ہے اے میرے ہم قوم یارو

مبادا کہ وہ تنگ عالم تمہیں ہو

گر اسلام کی کچھ حمیت ہے تم کو

تو جلدی سے اٹھو اور اپنی خبر لو

وگر نہ یہ قول آئے گا راست تم پر
کہ ہونے سے ان کا نہ ہونا ہے بہتر

رہو گے یو نہیں فارغ البال کب تک

نہ بدلو گے یہ چال اور ڈھال کب تک

رہے گی نئی پود پامال کب تک

نہ چھوڑو گے تم بھیڑیا چال کب تک

بس اگلے فسانے فراموش کر دو
تعصب کے شعلے کو خاموش کر دو

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔