وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
اک آواز میں سوتی بستی جگا دی
نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے
نہ آگاہ تھے مبداء و منتہا سے
لگائی تھی ایک اک نے لوہاسوا سے
پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے
کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق
زبان اور دل کی شہادت کے لائق
اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق
اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق
لیے علم و فن ان سے نصرانیوں نے
کیا کسب اخلاق روحانیوں نے
ادب ان سے سیکھا صفاہانیوں نے
کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے
ارسطو کے مردہ فنون کو جلایا
فلاطون کو زندہ پھر کر دکھایا
ہر اک شہر و قریہ کو یاناں بنایا
مزا علم و حکمت کا سب کو چکھایا
ہر اک علم کے فن کے جویا ہوئے وہ
ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ
فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ
سیاحت میں مشہور دنیا ہوئے
وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن
یہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن
نوشتوں سے ہیں جنکے اب تک مزین
کتب خانہ پیرس و روم و لندن
وہ ملت کہ گردوں پہ جس کا قدم تھا
ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علم تھا
ہو فرقہ جو آفاق میں محترم تھا
وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا
ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے
کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے
لگا نام آباء کو ہم سے گہن ہے
ہمارا قدم ننگِ اہل وطن ہے
یہاں جتنی قومیں ہمارے سوا ہیں
ہزار ان میں خوش ہیں تو دو مبتلا ہیں
یہاں لاکھ میں دو اگر اغنیا ہیں
تو سو نیم بسمل ہیں باقی گدا ہیں
کہیں باپ دادا کا ہیں نام لیتے
کہیں روشنائی سے ہیں کام لیتے
کہیں جھوٹے وعدوں پہ ہیں دام لیتے
یونہی ہیں وہ دے دے کے دم دام لیتے
انہی کے بزرگ ایک دن حکمراں تھے
انہی کے پرستار جیر و جواں تھے
یہی ماسن عاجز و ناتواں تھے
یہی مریخ و دیلم و اصفہاں تھے
بہت آپ کو کہہ کے مسجد کے بانی
بہت بن کے خود سیّد خاندانی
بہت سیکھ کر نوحہ و سوز خوانی
بہت مدح میں کرکے رنگیں بیانی
یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدا کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا
عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر
وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر
تفوق ہے ان کو کہیں و مہیں پر
مدار آمدت کا ہے اب انہیں پر
امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت
ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت
فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرأت
سپاہی کے ہتیار شاہوں کی طاقت
غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت
مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت
اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت
تو ہے بیزادوں پہ وقف ان کی دولت
وہ علم شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں
اصولی کدھر ہیں، مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں، مفسر کدھر ہیں
ہمارا یہ حق تھا کہ سب یار ہوتے
مصیبت میں یاروں کے غمخوار ہوتے
سب ایک ایک کے باہم مددگار ہوتے
عزیزوں کے غم میں دل افگار ہوتے
اگر بھولتے ہم نہ قولی پیمبر
کہ ” ہیں سب مسلمان باہم برادر "
برادر ہے جب تک برادر کا یاور
معین اس کا ہے خود خداوند داور
وہ گھر جسمیں دل ہوں ملے سبکے باہم
خوشی نا خوشی میں ہوں سب یار و ہمدام
اگر ایک خوش دل تو گھر سارا خرم
اگر ایک گمگیں تو دل سب کے پرغم
جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے
پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے
نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے
کوئی ان میں سوتا کوئی جاگتا ہے
کوئی ان سے پوچھے کہ اے ہوش والو
کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو
برا وقت بیرے پہ آنے کو ہے جو
نہ چھوڑے گا سوتوں کو اور جاگتوں کو
کسی نے یہ اک مرد دانا سے پوچھا
کہ نعمت ہے دنیا میں سب سے بڑی کیا
کہا عقل جس سے ملے دین و دنیا
کہا گر نہ ہو اس سے انساں کو بہرا
کہا گر نہ ہو یہ بھی اس کو میسر
کہا مال ودولت ہے پھر سب سے بڑھکر
کہا اور ہو یہ بھی اگر بند اس پر
کہا اس پہ بجلی کا گرنا ہے بہتر
مجھے ڈر ہے اے میرے ہم قوم یارو
مبادا کہ وہ تنگ عالم تمہیں ہو
گر اسلام کی کچھ حمیت ہے تم کو
تو جلدی سے اٹھو اور اپنی خبر لو
رہو گے یو نہیں فارغ البال کب تک
نہ بدلو گے یہ چال اور ڈھال کب تک
رہے گی نئی پود پامال کب تک
نہ چھوڑو گے تم بھیڑیا چال کب تک
