نظیر اکبر آبادی: اردو کا پہلا عوامی شاعر
اردو شاعری کی تاریخ میں نظیر اکبر آبادی کا نام ایک انقلابی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس دور میں غزل کا دور دورہ تھا، دربار اور محبوب کے حسن و عشق کے قصے بیان کیے جا رہے تھے، اس وقت نظیر نے شاعری کا رخ بازار، میلے اور عام آدمی کی جھونپڑی کی طرف موڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو "عوامی شاعر” اور "نظم کا باوا آدم” کہا جاتا ہے۔
سوانحی خاکہ
نظیر کا اصل نام ولی محمد تھا۔ آپ 1735ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھا۔ نظیر اپنے والدین کی بارہ بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے تھے، اس لیے ان کی پیدائش پر گھر میں بڑی خوشی منائی گئی۔ لیکن دہلی کے سیاسی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کی والدہ ان کو لے کر آگرہ چلی آئیں۔ نظیر نے اپنی پوری زندگی آگرہ میں ہی گزاری، اسی نسبت سے "اکبر آبادی” کہلائے۔ آگرہ کا پرانا نام اکبر آباد تھا۔
تعلیم و تربیت آگرہ میں ہی ہوئی۔ آپ ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بچپن میں فوجی تربیت بھی حاصل کی اور کھیل کود کے شوقین تھے۔ لیکن جب روزی کمانے کا وقت آیا تو انہوں نے مدرس کا پیشہ اختیار کیا۔ متھرا میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ ولاس راؤ کے چھ بچے بھی ان کے شاگرد تھے۔ بھرت پور کے راجہ اور اودھ کے نواب واجد علی شاہ نے ان کو اپنے دربار میں بلانا چاہا، مگر نظیر نے انکار کر دیا۔ وہ بادشاہوں کی خوشامد سے دور، عوام کے درمیان رہنا پسند کرتے تھے۔ 1830ء میں 95 سال کی عمر میں آگرہ میں ہی وفات پائی۔
عہد اور ادبی ماحول
نظیر کا زمانہ اردو شاعری کا سنہری دور تھا۔ یہ میر تقی میر، مرزا سودا، خواجہ میر درد، جرأت اور انشاء اللہ خان انشاء کا زمانہ تھا۔ لیکن یہ سب شاعر دربار سے وابستہ تھے۔ ان کی شاعری کا مرکز غزل تھی جس میں فارسی روایت کے مطابق عشق، ہجر، وصال، شراب، ساقی اور محبوب کے موضوعات تھے۔ عام زندگی، غریب طبقہ اور ہندوستانی تہذیب ان کی شاعری سے غائب تھی۔
ایسے ماحول میں نظیر اکبر آبادی نے بالکل نیا راستہ چنا۔ انہوں نے دربار کو چھوڑ کر بازار کا رخ کیا۔ ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع تھا۔
شاعری کی خصوصیات
1. عوامی زبان: نظیر کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی زبان ہے۔ انہوں نے فارسی کے مشکل اور ثقیل الفاظ سے گریز کیا۔ اس کے بجائے خالص ہندوستانی بولی استعمال کی جو آگرہ اور دہلی کے بازاروں میں بولی جاتی تھی۔ اسی لیے ان کو سمجھنے کے لیے لغت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کی زبان میں ضرب الامثال، محاورے اور عوامی لہجہ ملتا ہے۔ ایک عام ان پڑھ شخص بھی ان کی شاعری سے لطف اٹھا سکتا تھا۔
2. نظم کے بانی: نظیر سے پہلے اردو میں نظم کو وہ مقام حاصل نہیں تھا جو غزل کو تھا۔ نظیر نے نظم کو مقبول عام بنایا۔ انہوں نے 600 سے زیادہ نظمیں لکھیں۔ ان کی نظموں میں کہانی، مکالمہ اور منظر نگاری ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کو "نظم کا باوا آدم” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مسدس، مربع اور مثنوی کی ہیئت میں شاندار نظمیں کہیں۔
3. موضوعات کا تنوع: نظیر نے زندگی کے ہر پہلو کو موضوع بنایا۔ کوئی چیز ایسی نہ تھی جس پر انہوں نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ ان کے موضوعات دیکھیں: بچوں کے کھیل "کبڈی”، تہوار "ہولی”، "دیوالی”، "عید”، "شب برات”، رمضان، بھکاری، بنجارے، بازار کے مناظر، پھل فروش، مچھلی فروش، روٹیاں، چوہے، بلی، کبوتر، پتنگ، برسات، گرمی، آدمی، غریبی، امیری۔ ان کی نظر سے زندگی کا کوئی گوشہ نہیں بچا۔
4. طنز و مزاح: نظیر کے ہاں طنز بہت گہرا لیکن میٹھا ہے۔ وہ ہنستے ہنستے معاشرے کی برائیوں پر چوٹ کرتے ہیں۔ "آدمی نامہ” اس کی بہترین مثال ہے۔ اس میں انہوں نے بادشاہ، فقیر، عالم، جاہل، شیخ، برہمن سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا۔ ان کا طنز اصلاحی ہے، زہر اگلنے والا نہیں۔
5. حقیقت نگاری: نظیر نے زندگی کو جیسا دیکھا ویسا بیان کر دیا۔ ان کے ہاں تصنع اور بناوٹ نہیں۔ "روٹیاں” نظم میں غریب کی بھوک کا جو دردناک نقشہ کھینچا ہے وہ پڑھنے والے کو رلا دیتا ہے۔ "بنجارہ نامہ” میں دنیا کی بے ثباتی کو جس طرح بیان کیا ہے وہ دل ہلا دینے والا ہے۔
6. ہندوستانی تہذیب: نظیر پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ہندو مسلم تہذیب کے سنگم کو شاعری میں جگہ دی۔ ہولی، دیوالی پر نظمیں لکھیں۔ کرشن کنہیا کا ذکر محبت سے کیا۔ ان کے ہاں تنگ نظری نہیں بلکہ وسعت قلبی ہے۔
مشہور نظمیں اور ان کا تجزیہ
1. آدمی نامہ: یہ نظیر کی سب سے مشہور نظم ہے اور ڈی ڈی یو نصاب میں شامل ہے۔ اس میں 14 بند ہیں۔ ہر بند میں نظیر بتاتے ہیں کہ بادشاہ بھی آدمی ہے، فقیر بھی آدمی۔ ظالم بھی آدمی ہے، مظلوم بھی آدمی۔ شیخ بھی آدمی ہے، برہمن بھی آدمی۔ یعنی سب برابر ہیں۔ فرق صرف حالات کا ہے۔ اس نظم کا پیغام انسانی مساوات ہے۔
2. بنجارہ نامہ: یہ نظم دنیا کی بے ثباتی پر ہے۔ بنجارہ ایک علامت ہے جو دنیا میں سامان لاد کر لاتا ہے اور خالی ہاتھ چلا جاتا ہے۔ نظیر کہتے ہیں کہ انسان بھی دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ جاتا ہے۔ درمیان میں اکڑ کس بات کی؟ یہ نظم تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔
3. روٹیاں: اس میں غریب کی بھوک اور روٹی کی اہمیت بیان کی ہے۔ نظیر کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی چیز روٹی ہے۔ نہ مذہب، نہ محبت، نہ شاعری۔ بھوکے کو روٹی چاہیے۔
4. ہولی، دیوالی، عید: ان نظموں میں تہواروں کی رنگینی اور گہما گہمی کا دلکش بیان ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کا پیغام بھی ملتا ہے
ادبی مقام اور مخالفت
نظیر کے زمانے میں بڑے شاعروں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ان کو "بازاری شاعر” اور "بھانڈوں کا شاعر” کہا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ میر و سودا کی طرح بلند خیالی کے بجائے بازار، میلے اور بچوں کی باتیں کرتے تھے۔ ان کے مجموعے ان کی زندگی میں شائع نہیں ہوئے۔ 1830 میں وفات کے بعد 1854 میں پہلی بار "کلیات نظیر” چھپی۔
لیکن بیسویں صدی میں تنقید نگاروں نے ان کی عظمت کو پہچانا۔ آج نظیر کو اردو کا سب سے بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے شاعری کو محل سے نکال کر جھونپڑی تک پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ شاعری صرف اشرافیہ کے لیے نہیں، عام آدمی کے لیے بھی ہے۔
اثرات اور اہمیت
نظیر کے بعد حالی، اکبر الہ آبادی اور اقبال نے بھی نظم کو اپنایا۔ لیکن عوامی رنگ اور زبان کی سادگی میں نظیر آج بھی بے مثال ہیں۔ ترقی پسند تحریک نے نظیر کو اپنا ہیرو بنایا کیونکہ وہ غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے۔
نتیجہ: نظیر اکبر آبادی اردو شاعری کا وہ روشن باب ہیں جس نے ادب کو عوام سے جوڑا۔ وہ صرف شاعر نہیں، ایک سماجی مصلح تھے۔ ان کی شاعری آج بھی اتنی ہی تازہ ہے جتنی 200 سال پہلے تھی۔ کیونکہ انسان کی فطرت نہیں بدلی۔ غرور، اونچ نیچ، بھوک، غریبی آج بھی موجود ہے۔ اس لیے نظیر آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں۔
تعداد الفاظ: 998
