آدمی نامہ – متن

آدمی نامہ

نظیر اکبرآبادی، ولی محمد
تخمیناً 1735-36ھ

دنیاں میں بادشاہ ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
مٹکو لے چبا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی نار ہے، اور آدمی ہی نور
یاں آدمی ہی پاس ہے، اور آدمی ہی دور
کل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور
شیطاں بھی آدمی ہے، جو کرتا ہے مکرو و زور
اور ہادی رہنما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں، میاں!
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطیب خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن، اور نماز یاں
اور آدمی ہی، ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جواں کو تار تار ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی پہ، تیغ کو مارے ہے آدمی
پگڑی بھی آدمی کی، اُتارے ہے آدمی
چٹلا کے، آدمی کو پُکارے ہے آدمی
اور مُنہ کے دوڑتا ہے، سُنے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی دُکانیں لگا لگا
اور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خوانچا
کہتا ہے کوئی: لو! کوئی کہتا ہے: لارے لا!
کس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں؟ بنا بنا
اور مول لے رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اک آدمی ہیں اُن کے یہ کچھ زرّق برق ہیں
روپے کے جن کے اِنہیں، سونے کے زرّق ہیں
جھکے تمام غرب سے تا بہ شرق ہیں
کلموا ب، تا ش، شنال، دوشالوں میں غرق ہیں
اور چیتھڑوں لگا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف، اور کہنے سے لے شاہ تا وزیر
یہ آدمی ہی، کرتے ہیں سب کار دل پذیر
یاں آدمی مرید ہیں، اور آدمی ہی پیر
اچھا بھی آدمی، ہی کہاتا ہے لے نظیر!
اور سب میں جو بُرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔