مسدس مدو جزر اسلام کا خلاصہ
نصاب کے مطابق مسدس مدو جزر اسلام کے منتخب کردہ 30 بندوں کا خلاصہ
حالی ان بندوں میں سب سے پہلے رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ کو "رحمت لقب پانے والا” کہہ کر پکارتے ہیں۔ آپ کی صفات بیان کرتے ہیں کہ آپ غریبوں کی مرادیں پوری کرنے والے، مصیبت میں غیروں کے بھی کام آنے والے اور اپنے پرائے سب کا غم کھانے والے تھے۔ آپ فقیروں کی پناہ گاہ، کمزوروں کا سہارا، یتیموں کے سرپرست اور غلاموں کے مولیٰ تھے۔ آپ کی شان یہ تھی کہ خطا کار کو معاف کر دیتے اور بداندیش کے دل میں بھی جگہ بنا لیتے۔ آپ نے معاشرے سے فساد ختم کر کے قبائل کو آپس میں شیر و شکر کر دیا۔
اس کے بعد حالی بتاتے ہیں کہ آپ غارِ حرا سے ایک ایسا "نسخۂ کیمیا” لے کر قوم کے پاس آئے جس نے عرب کی کایا پلٹ دی۔ جس معاشرے میں صدیوں سے جہالت کا اندھیرا تھا، وہاں آپ کی تعلیم نے کھوٹے اور کھرے کو الگ کر دیا، خام کو کندن بنا دیا۔ آپ کی دعوت ایک بجلی کے کڑکے کی طرح تھی جس نے سوئی ہوئی بستی کو جگا دیا۔ آپ کی آواز سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ اس سے پہلے انسان موت کے بعد کی جزا و سزا، دنیا کے آغاز و انجام سے بے خبر تھا۔ لوگ خدا سے بہت دور جا پڑے تھے۔ لیکن جب آپ نے للکار کر اعلانِ توحید کیا کہ "صرف ایک خدا ہی عبادت کے لائق ہے، اسی کے آگے سر جھکانا چاہیے” تو پورا معاشرہ لرز اٹھا۔
حالی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ نصرانیوں نے مسلمانوں سے علم و فن سیکھا، روحانیوں نے اخلاق سیکھا، صفاہان کے لوگوں نے ادب سیکھا۔ آپ نے ہر دل سے جہالت کا رشتہ توڑ دیا اور دنیا کا کوئی گھر تاریک نہ چھوڑا۔ آپ کے ذریعے یونان کا مردہ فلسفہ دوبارہ زندہ ہوا۔ ارسطو اور افلاطون کے علوم کو نئی زندگی ملی۔ ہر شہر اور گاؤں علم و حکمت کا مرکز بن گیا۔ آنکھوں سے جہالت کا پردہ اٹھ گیا اور زمانہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوا۔
مسلمان ہر علم کے جویا بن گئے۔ کھیتی باڑی میں یکتا، سیاحت میں مشہور ہوئے۔ ان کی عمارتیں ہر ملک میں پھیل گئیں اور ہر قوم نے ان سے تجارت سیکھی۔ مشرق کے چمکتے تاروں کی روشنی مغرب تک پہنچی۔ پیرس، روم اور لندن کے کتب خانے آج بھی مسلمان علما کی کتابوں سے مزین ہیں۔ جن لوگوں کا ڈنکا ملکوں میں بجتا تھا، وہ آج بغداد کے مقبروں میں سو رہے ہیں۔
اس کے بعد حالی امتِ مسلمہ کے حال پر نوحہ کرتے ہیں۔ وہ ملت جو کبھی آسمان کو چھو رہی تھی، جس کا علم ہر جگہ لہرا رہا تھا، جسے "خیر الامم” کا لقب ملا تھا، اس کا آج صرف نام باقی ہے۔ ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارے چلن میں کمینہ پن آ گیا ہے۔ ہم نے بزرگوں کی عزت کھو دی اور عرب کی شرافت کو ڈبو دیا۔
حالی معاشرے کا موازنہ کرتے ہیں: دوسری قوموں میں اگر ہزار میں سے دو مصیبت میں ہیں تو ہمارے یہاں لاکھ میں سے دو امیر ہیں، باقی سب بھوکے ننگے ہیں۔ ہم اپنے باپ دادا کا نام بیچ کر، جھوٹے وعدوں پر، قبروں اور آستانوں کے نام پر در در مانگتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ہی بزرگ ایک دن حکمران تھے۔ مری، ری، اصفہان اور دیلم تک ان کی حکومت تھی۔ آج ہم مسجد کے بانی اور سید خاندانی کہلا کر، نوحہ خوانی سیکھ کر بھیک مانگ رہے ہیں۔
حالی یاد دلاتے ہیں کہ کتابِ ہدیٰ کا پہلا سبق یہی تھا کہ ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔ اصل عبادت یہی ہے کہ انسان، انسان کے کام آئے۔ جو قومیں اس اصول پر چلیں، وہ آج زمین پر سرسبز ہیں۔ دنیا کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے شریعت کے وعدے توڑے، تو اہلِ مغرب نے انہیں اپنا لیا۔ آج ان کے امیر سخی ہیں، دولت یتیموں پر وقف ہے، مگر ان کے نوکر بھوکے نہیں مرتے۔ جبکہ ہمارے یہاں امیر عیش کرتے ہیں اور ملازم فاقوں سے مرتے ہیں۔
حالی سوال اٹھاتے ہیں: وہ علمائے شریعت، مفسر، محدث، مناظر کہاں گئے؟ جو مجلس کل چراغاں تھی، آج وہاں ایک چراغ بھی نہیں جلتا۔ ہمارا حق تھا کہ ہم ایک دوسرے کے یار، مددگار اور غمخوار ہوتے۔ اگر ہم محبت میں ثابت قدم رہتے تو واقعی "خیر الامم” کہلاتے۔ ہم بھول گئے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔” اگر بھائی، بھائی کا مددگار ہو تو خدا خود اس کا مددگار ہوتا ہے۔
حالی ملت کی مثال ایک ڈوبتے جہاز سے دیتے ہیں۔ جہاز گرداب میں پھنسا ہے، کوئی سو رہا ہے کوئی جاگ رہا ہے۔ جاگنے والے سونے والوں پر ہنس رہے ہیں۔ حالی تنبیہ کرتے ہیں کہ جب جہاز ڈوبے گا تو سونے والے اور جاگنے والے سب ڈوبیں گے۔ قوم کی تباہی میں کوئی نہیں بچے گا۔
پھر ایک حکایت کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت عقل ہے، اس کے بعد علم و ہنر، پھر مال و دولت۔ اگر یہ تینوں نہ ہوں تو ایسے شخص کا نہ ہونا، ہونے سے بہتر ہے کیونکہ وہ قوم پر بوجھ ہے۔ حالی اپنی قوم کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر تم نے اسلام کی غیرت کی تو اٹھو اور اپنی خبر لو، ورنہ تمہارا نہ ہونا، ہونے سے بہتر ہوگا۔
آخر میں حالی درد بھری اپیل کرتے ہیں: کب تک فارغ البالی سے بیٹھے رہو گے؟ کب تک نئی پود کو پامال ہونے دو گے؟ بھیڑیوں والی چال کب چھوڑو گے؟ اب پرانے قصے بھول جاؤ اور تعصب کے شعلے کو بجھا دو۔ اتحاد، علم، عمل اور کردار سے ہی قوم دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔
مرکزی پیغام: حالی ان بندوں میں ماضی کی عظمت دکھا کر حال کا نوحہ کرتے ہیں اور مستقبل کے لیے عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نبی ﷺ کی تعلیم نے دنیا کو جہالت سے نکالا، مسلمانوں کو عروج بخشا، لیکن جب ہم نے قرآن کے اصول چھوڑے تو زوال ہمارا مقدر بنا۔ نجات کا راستہ صرف علم، اتحاد، مساوات اور خدمتِ خلق میں ہے۔
